LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینی کسانوں پر حملے اور زیتون کی چوری

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں سالانہ زیتون کی کٹائی کے سیزن کے دوران اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی کسانوں پر حملے کیے ہیں۔ ان پرتشدد کارروائیوں کے دوران فلسطینیوں کی تیار شدہ زیتون کی فصل بھی چرا لی گئی۔
مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، رواں برس زیتون کی کٹائی کے سیزن کے دوران اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے زرعی زمینوں پر دھاوا بول دیا جہاں فلسطینی کسان اپنی سال بھر کی محنت کا پھل سمیٹنے میں مصروف تھے۔ حملوں کے دوران نہ صرف کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی تیار شدہ زیتون کی فصل بھی کھلے عام چوری کر لی گئی۔ یہ سالانہ فصل فلسطینی معیشت اور دیہی آبادی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، تاہم اس قسم کے پرتشدد واقعات ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ مقامی زرعی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد فلسطینی کسانوں کو ان کی آبائی زمینوں سے جبراً بے دخل کرنا اور ان کے روزگار کے ذرائع کو تباہ کرنا ہے۔ کسانوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں تحفظ فراہم کیا جا سکے اور چوری شدہ فصل کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کے پرتشدد واقعات کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، اور کسانوں کو اپنی ہی زمینوں پر کام کرنے کے دوران شدید حفاظتی خدشات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سکیورٹی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان حملوں کو لگام نہ دی گئی تو خطے میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے، جہاں پہلے ہی تناؤ عروج پر ہے۔