World
یمن میں لڑائی میں شدت، کیا مکمل جنگ واپس آ گئی ہے؟
یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ تنازع ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف جا رہا ہے۔
یمن میں سرکاری افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ طویل عرصے سے جاری اس تنازع میں وقفے وقفے سے پرسکون رہنے کے بعد اب زمینی محاذوں پر جھڑپیں شدید ہو گئی ہیں، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ماہرین اور مبصرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کہیں ملک کو ایک دفعہ پھر سے مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں نہ لے آئے۔ یمنی حکومت اور حوثیوں کے مابین امن مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی کوششیں بھی فی الحال سست روی کا شکار دکھائی دیتی ہیں، جس کی وجہ سے عسکری محاذ پر ایک بار پھر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی ان تازہ جھڑپوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی پریشان کر دیا ہے کیونکہ پہلے ہی یمن دنیا کے بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور دونوں متحارب فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے، تاہم فی الحال میدان جنگ کا یہ نیا رُخ امن کی تمام امیدوں کو ماند کر رہا ہے۔