World
ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملہ، فضائی آپریشن معطل اور متعدد زخمی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ حملے کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے ایک شدید میزائل حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کے تحت ایئرپورٹ پر تمام تر فضائی آپریشن کو فی الحال معطل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے کا مقصد مملکت کے فضائی رابطوں کو دنیا بھر سے منقطع کرنا اور اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے کی زد میں آنے والے ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں نقصان پہنچا ہے اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے خطے میں ایک بار پھر سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، حوثی باغیوں کی جانب سے اس قسم کے حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت کی فضائی حدود اور شہریوں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور اس حملے کا موثر جواب دیا جائے گا۔ ایئرپورٹ کی بندش کے باعث ہزاروں مسافروں کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد سکیورٹی کلیئرنس کے بعد فضائی ٹریفک کو بحال کیا جا سکے۔