LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں اور عالمی ردعمل

News Image
امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف سخت اور وسیع تر پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے، جس پر یورپی یونین اور مختلف عالمی شخصیات نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نوبل امن انعام یافتگان اور عالمی اداروں نے اس اقدام کو ناقابل قبول اور عدالت کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف ایک سخت اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے وسیع تر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کا مقصد مبینہ طور پر عدالت کے دائرہ کار اور اس کے کام کرنے کے طریقوں کو محدود کرنا ہے۔ اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے انصاف کے بین الاقوامی نظام پر ایک کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے دباؤ کے باوجود وہ اپنے قانونی فرائض کی انجام دہی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ادھر یورپی یونین نے بھی فوری طور پر واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کے خلاف عائد کی گئی ان تازہ ترین پابندیوں کو فی الفور واپس لے تاکہ بین الاقوامی قانون کی بالادستی برقرار رکھی جا سکے۔ دوسری جانب نوبل امن انعام یافتگان اور مختلف عالمی شخصیات نے بھی امریکی اقدام کو 'ناقابل قبول' قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے امریکہ اور عالمی اداروں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔