LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی پولیس شدید تنقید کی زد میں، طلبہ مظاہرے جاری

News Image
فرانس میں طلبہ کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد اور سکیورٹی فورسز کے اقدامات پر ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ حکومت نے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اضافی اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیا ہے لیکن طلبہ کا احتجاج تاحال جاری ہے۔
فرانس میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں شدت کے ساتھ ہی پولیس کے طریقہ کار اور سکیورٹی فورسز کے اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے باہر طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ اس دوران جھڑپوں میں کئی طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے پورے ملک میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس احتجاج نے فرانسیسی معاشرے کے گہرے تقسیم شدہ رخ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مظاہروں کے دوران 'ہر کوئی پولیس سے نفرت کرتا ہے' جیسے نعرے اور جذباتی مناظر اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان پایا جانے والا خلیج گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال حالات کو سدھارنے کے بجائے مزید بگاڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات کے پہلے مرحلے کے طور پر تین ہزار اضافی اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ تعلیمی نظام کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اگرچہ اس اعلان کو حکومت کی طرف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے اور مفاہمت کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم طلبہ رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔