Business
پی آئی اے کا بیڑا بہتر بنانے کے لیے ایئربس اور بوئنگ طیاروں پر غور
نجی بنائے جانے والے قومی ادارے پی آئی اے نے اپنے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے بین الاقوامی طیارہ ساز کمپنیوں ایئربس اور بوئنگ سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں نورس اٹلانٹک کے ساتھ بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیاروں کے حصول کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں نجکاری کے عمل سے گزرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئلاینز (پی آئی اے) نے اپنے فضائی بیڑے کی از سر نو تعمیر اور توسیع کے لیے دنیا کی معروف طیارہ ساز کمپنیوں ایئربس اور بوئنگ کے جدید طیاروں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فضائی سفر کے امور پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق، پی آئی اے آنے والے مہینوں میں اپنے بیڑے کو وسعت دینے کے لیے پرامید ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نورس اٹلانٹک اور پی آئی اے کے درمیان ایک اہم لیز کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اگلے ماہ پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں جدید بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے شامل ہو جائیں گے۔ اس سے قبل انڈگو کے ساتھ ہونے والی شراکت داری کے خاتمے کے بعد پی آئی اے نے نورس اٹلانٹک کے ساتھ دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کے حصول کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ کاروباری اور ہوابازی کے ذرائع نے اس پیش رفت کو قومی ایئرلائن کی بحالی کی سمت میں ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ایوی ایشن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید اور زیادہ ایندھن کی بچت کرنے والے طیاروں کی شمولیت سے پی آئی اے کے مالیاتی خسارے میں کمی واقع ہوگی اور منافع بخش روٹس پر سروسز کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ نجی کاری کے بعد انتظامی امور میں متوقع بہتری اور نئے طیاروں کی آمد سے مسافروں کا اعتماد بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔