LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا بیان: یوکرین کے لیے نئے صدر کا وقت آ گیا

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روسی ڈیزل ڈیل پر تنقید کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب یوکرین کے لیے ایک نئے صدر کے انتخاب کا وقت آ چکا ہے۔
امریکی سیاست اور بین الاقوامی امور میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے خلاف ایک سخت بیان جاری کیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یوکرینی صدر نے اس مبینہ معاہدے پر کڑی تنقید کی جس کے تحت روس سے ڈیزل کو امریکہ تک پہنچانے کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ صدر زیلنسکی کا موقف تھا کہ اس طرح کے کاروباری اقدامات سے ماسکو کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل مل رہے ہیں، جس سے جنگی صورتحال مزید طویل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنقید پر انتہائی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو ایک نیا صدر ملے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ واشنگتن اور کییف کے درمیان تعلقات میں یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر یوکرین کی جنگ کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ روسی ڈیزل کی امریکہ منتقلی کے اس معاملے پر عالمی منڈی اور توانائی کے شعبے میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ یوکرین کی قیادت کا اصرار ہے کہ روس کے ساتھ کسی بھی قسم کی توانائی کی تجارت بالواسطہ طور پر جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اس پورے تنازعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی تجارت اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے کے ساتھ گہرے انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں اس بیان اور تنازعے کے یوکرین کی جنگ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں لگایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث مزید تیز ہو سکتی ہے کیونکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کی گہमागहमी بھی عروج پر ہے اور خارجہ امور داخلی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔