LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا یوکرین میں نئے صدر کا مطالبہ اور زیلنسکی پر تنقید

News Image
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ملک میں نئی قیادت لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یوکرین جنگ کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے موجودہ صدر ولودیمیر زیلنسکی پر شدید تنقید کرتے ہوئے یوکرین میں نئی قیادت کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ٹرمپ کے اس موقف سے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں بھی یوکرین کی جنگ اور اس کے رہنماؤں کی پالیسیوں پر کھل کر بات کی ہے، تاہم تازہ ترین بیان میں انہوں نے براہ راست قیادت کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان واشنگٹن اور کییف کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یوکرین اس وقت اپنی بقا اور دفاع کے لیے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کی عسکری اور مالی امداد پر انحصار کر رہا ہے۔ ایسے میں امریکی قیادت کی جانب سے اس قسم کے بیانات یوکرین کی حکومت کے لیے اندرونی اور بیرونی چیلنجز میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، کیونکہ کییف انتظامیہ کو پہلے ہی میدان جنگ میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ابھی تک یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی یا ان کے دفتر کی طرف سے ٹرمپ کے اس تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یورپی دارالحکومتوں میں اس بیان پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ یورپی رہنما اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر امریکہ نے یوکرین کے لیے اپنی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کی تو اس سے خطے کا سکیورٹی ڈھانچہ مکمل طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کے اس مطالبے کے بعد عالمی سفارت کاری میں کیا نیا موڑ آتا ہے اور آیا واشنگٹن اور کییف کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی ہے یا نہیں۔