LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے جاری

News Image
امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں مستقل امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکہ کی ثالثی میں غزہ کے لیے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو باضابطہ طور پر ایک سال پورا ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی اور اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی اموات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، معاہدے کی پہلی برسی کے روز بھی مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں کئی معصوم شہری لقمہ اجل بن گئے۔ اس مسلسل خونریز صورتحال نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کی تمام بین الاقوامی کوششوں کو سوالیہ نشان کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک سال قبل فریقین کے درمیان تنازع کو ختم کرنے اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی نگرانی بین الاقوامی سطح پر کی جا رہی تھی۔ تاہم، معاہدے کی پاسداری نہ ہونے اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے غزہ کے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے جبکہ اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو ہدف بنائے جانے کے پے در پے واقعات نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن زمینی سطح پر تشدد کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کوئی مؤثر عملی قدم اٹھایا نہیں جا سکا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک فریقین کے مابین حقیقی سیاسی حل اور انصاف پر مبنی مذاکرات کا آغاز نہیں ہوتا، اس وقت تک عام شہریوں کا جینا محال رہے گا۔ غزہ کی محصور عوام آج بھی اس امید پر ہیں کہ بین الاقوامی برادری اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس طویل المیعاد انسانی المیے کا مستقل خاتمہ کرے گی۔