World
ریاض ایئرپورٹ پر حملہ، پروازیں معطل اور متعدد زخمی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع اہم ترین ہوائی اڈے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ ہفتے کے دوران اس ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جس نے ملک کی فضائی سکیورٹی پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق اس ناخوشگوار واقعے کے فورا بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مسافروں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایئرپورٹ پر تمام تر فضائی آپریشنز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ پروازوں کی آمد و رفت اگلی ہدایات اور سکیورٹی کلیئرنس تک معطل رہے گی، جس کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو ائیرپورٹ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب، عالمی اور علاقائی سطح پر اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ایسے واقعات خطے کے امن اور ہوائی سفر کی حفاظت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جلد ہی فضائی آپریشن کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔