LIVE
Loading Breaking News...

پوپ کی جانب سے سزائے موت کی مخالفت اور امریکی لائیو پھانسی کا تنازع

News Image
پوپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں سزائے موت کو انسانی وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ایک مجرم کی پھانسی کو لائیو نشر کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے سزائے موت کے خلاف ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ سزائے موت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے اور یہ انسانی شخصیت کے تقدس اور وقار پر براہِ راست ایک حملہ ہے۔ پوپ کا یہ بیان دنیا بھر میں سزائے موت کے قانونی اور اخلاقی جواز پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے، جس کی عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی طرف سے تائید کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ایک مجرم کو دی جانے والی موت کی سزا کو براہ راست نشر کرنے کا متنازع منصوبہ زیر غور ہے۔ امریکہ کے بعض حلقوں کی طرف سے اس مجوزہ لائیو نشریات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس اقدام کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دے رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پوپ کے اس تازہ بیان سے سزائے موت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مزید تقویت ملے گی اور اس معاملے پر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر بحث چھڑ جائے گی کہ آیا ریاست کو کسی انسان کی جان لینے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے پوپ کے اس مؤقف کو سراہتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قوانین پر نظر ثانی کریں اور کیپٹل پنشمنٹ کے نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کریں۔