World
کرسٹا پائیک ہسپتال سے ڈسچارج، ٹینیسی جیل منتقلی
سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد دوبارہ ٹینیسی کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہ حال ہی میں زہر کے انجکشن کی دو خوراکیں دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی تھیں، جس سے سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والی سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک کو طبی معائنے اور علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر کے واپس متعلقہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان کی صحت اب ایسی ہے کہ انہیں جیل کے حفاظتی حصار میں رکھا جا سکے۔ کرسٹا پائیک کے حوالے سے یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ان کی سزائے موت کے نفاذ کے دوران انتہائی ڈرامائی اور متنازعہ واقعات رونما ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ تیس ستمبر کو کرسٹا پائیک کو زہر کے انجکشن کی دو جان لیوا خوراکیں دی گئی تھیں، مگر حیرت انگیز طور پر وہ ان دونوں خوراکوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے زندہ بچ گئی تھیں۔ اس غیر معمولی واقعے نے ایک بار پھر ریاست میں سزائے موت کے طریقۂ کار، اس کے انسانی پہلوؤں اور طبی اخلاقیات پر ملک بھر میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سزائے موت کے مخالفین نے اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت سے اس نظام پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین اس کیس کے طویل عدالتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ اور محکمہ اصلاح و بہبود نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ کرسٹا پائیک کو تمام ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد واپس ان کی سیل میں بند کر دیا گیا ہے، جہاں جیل قوانین کے مطابق ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔