World
اریٹیریا کا ایتھوپیا کشیدگی پر اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ
اریٹیریا نے پڑوسی ملک ایتھوپیا کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازع کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں جس سے وسیع تر جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
افریقہ کے حریف ممالک اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی شدید ترین لہر کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جس کے پیش نظر اریٹیریا کی حکومت نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین تعطل میں فوری طور پر مداخلت کرے۔ اس وقت خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ فریقین ایک دوسرے کو موجودہ کشیدگی اور جنگ کے آغاز کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تنازع ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے تباہ کن انسانی اور معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔
اریٹیریا کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے اور کسی بھی بڑے فوجی تصادم کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ دوسری جانب، ایتھوپیا کی طرف سے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پرامن مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے تاکہ افریقہ کے اس حساس خطے میں مزید خون خرابے سے بچا جا سکے اور خطے کے عوام کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔