World
غزہ میں خیمے دفاتر اور کلینک میں تبدیل، رئیل اسٹیٹ بحران کا اثر
غزہ میں شدید رئیل اسٹیٹ بحران کی وجہ سے پیشہ ور افراد خیموں کو عارضی دفاتر اور سرجری یونٹس میں تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال کے باوجود غزہ کے عوام کا حوصلہ اور کام جاری رکھنے کا عزم غیر متزلزل ہے۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں جاری شدید ترین بحران نے زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، تاہم وہاں کے باحوصلہ عوام نے مشکلات کے باوجود ہار ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ حالیہ رئیل اسٹیٹ اور رہائشی بحران نے جہاں عام شہریوں کو بے گھر کیا ہے، وہیں دوسری جانب پیشہ ور افراد اور ماہرینِ طب کو بھی اپنے روایتی دفاتر اور کلینکس سے محروم کر دیا ہے۔ اس نامساعد صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اب غزہ کے پروفیشنلز نے انوکھا حل نکالتے ہوئے خیموں کو ہی اپنے دفاتر اور سرجری یونٹس میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد غزہ میں کاروباری اور طبی سرگرمیوں کے لیے مناسب جگہ کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء اور دیگر ماہرین نے عارضی خیموں میں ہی اپنے روزمرہ کے امور انجام دینا شروع کر دیے ہیں۔ ان عارضی دفاتر میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
اس نئے مگر مجبوری کے تحت ابھرنے والے دفتری کلچر نے ایک بار پھر غزہ کے عوام کی جفاکشی اور استقامت کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ طبی شعبے سے وابستہ افراد نے خیموں کے اندر ہی چھوٹے پیمانے پر مریضوں کے معائنے اور ابتدائی طبی امداد کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل کی شدید کمی کے باوجود انسانی جانوں کو بچانے اور زندگی کا پہیہ رواں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔