LIVE
Loading Breaking News...

ریاض ایئرپورٹ پر حملہ اور پروازیں معطل، تازہ ترین صورتحال

News Image
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے کے بعد تمام فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
سعودی حکام نے ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ حملے کے بعد تمام فضائی آپریشن معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کی وجہ سے ہوا۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر طبی عملے اور ڈاکٹروں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ایئر ٹرافک مانیٹر کے مطابق واقعے کے بعد ڈیڑھ سو سے زائد آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ سیکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ ہوائی اڈے پر موجود چشم دید گواہوں نے دھماکے کی آواز سننے اور افراتفری کے عالم میں لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔ ایک مقامی میڈیکل سورس کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت نے دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جہاں شدید زخمی افراد کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد مختلف ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی وارننگ جاری کی ہے جبکہ مغربی سفارت کاروں نے حفاظتی اقدام کے طور پر آئندہ ہفتے تک اس ہوائی اڈے کے سفر پر پابندی عائد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور باب المندب کے قریب لڑائی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین فی الحال سفارت کاری کے بجائے جنگ جاری رکھنے پر بضد نظر آتے ہیں۔