Politics
وزیراعظم اور صدر زرداری کی ملاقات، کے پی میں ایمرجنسی کا امکان
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان اہم ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں ممکنہ طور پر ایمرجنسی کے نفاذ اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوان صدر میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وفاقی حکومت کی جانب سے وہاں ایمرجنسی کے نفاذ کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکومتی وزراء اور قانونی مشیران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس آئندہ منگل کے روز طلب کیے جائیں گے تاکہ پارلیمانی سطح پر ملکی امور اور صوبائی کشیدگی پر بحث کی جا سکے۔ اس ملاقات کے بعد خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی صدر مملکت سے الگ ملاقات کی اور انہیں صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے آگاہ کیا۔ گورنر کے پی نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ اور شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ کسی بھی سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ دوسری جانب، وفاقی وزراء نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کے پی حکومت کو ترقیاتی فنڈز کے تحت بھاری رقم ملی لیکن اس کے باوجود کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا، بلکہ فنڈز کو احتجاجی مظاہروں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان اور وزراء کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعاون نہ ملنے اور قومی پالیسی کے خلاف تقاریر کی وجہ سے حالات آخری آپشن کی طرف جا رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ آخری راستہ ہے اور وفاقی حکومت انتہائی مجبوری کی حالت میں اس قدم پر غور کر رہی ہے کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کا ساتھ نہیں دے رہی۔ دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بعد میں اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں مرکز اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غوروخوض کیا گیا۔