World
جرمنی کا روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ، ٹرمپ کے ڈیزل کے اعلان پر ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی خریداری کے معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال کے باوجود جرمنی نے واضح کیا ہے کہ وہ روس پر عائد پابندیوں کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔
برلن: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی خریداری کے حوالے سے ایک حیرت انگیز پالیسی تبدیلی اور معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود جرمنی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف عائد کردہ اقتصادی اور تجارتی پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گا۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے بحران کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے اور برلن کی پالیسی میں اس حوالے سے کوئی لچک پیدا نہیں کی جائے گی۔ امریکی سیاست میں وسطی مدت کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آنے والے اس اقدام نے یورپی اتحادیوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے اس معاہدے اور یوکرین پر کی جانے والی تنقید کے بعد کیف کی حکومت اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیش رفت سے مغربی اتحاد میں تگ و دو اور پالیسیوں کے تضاد واضح ہو رہے ہیں، جہاں امریکہ اپنے اندرونی ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے فیصلے کر رہا ہے جبکہ یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی روس کے خلاف اپنے اتحادی مؤقف کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جرمن وزارت خارجہ اور اقتصادی امور کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں، تاہم ماسکو کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سیاسی دباؤ کے پیش نظر آنے والے دنوں میں یورپی اور امریکی تعلقات میں مزید سفارتی چیلنجز پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔