LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی انتخابات ملتوی، صدر محمود عباس کا ستمبر 2027 کا اعلان

News Image
فلسطینی صدر محمود عباس نے گزشتہ بیس سالوں میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کو مزید مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ستمبر 2027 میں منعقد کیے جائیں گے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک اہم صدارتی فیصلے کے تحت فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کو ایک بار پھر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان انتخابات کو ستمبر 2027 تک کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران فلسطینی علاقوں میں کوئی باقاعدہ پارلیمانی انتخابات منعقد نہیں ہو سکے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی و جمہوری عمل شدید تعطل کا شکار ہے۔ اس تاخیر نے فلسطینی دھڑوں اور عوام میں نئی بحث کو جنم دیا ہے جو طویل عرصے سے جمہوریت کی بحالی کے منتظر تھے۔ انتخابات کو ملتوی کرنے کے اس فیصلے کے بعد مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ پروٹیکشن سینٹر فار ہیومن رائٹس نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانونی بنیادوں کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کو بار بار مؤخر کرنا جمہوری اصولوں اور عوامی حقوق کے منافی ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فلسطینی دھڑوں کے مابین اندرونی اختلافات اور سیاسی چپقلش بھی اس تاخیر کی بڑی وجوہات میں شمار کی جا رہی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس کا خمیازہ عام فلسطینی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ستمبر 2027 کی نئی تاریخ کے اعلان کے بعد بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ صدر محمود عباس کے دفتر کی طرف سے تحال یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں تھا، اس لیے قومی مفاد میں یہ قدم اٹھایا گیا۔ تاہم، اس تاخیر نے بین الاقوامی برادری اور فلسطینی عوام کے اندر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا فلسطین میں جمہوریت کا مستقبل کیا ہو گا اور کیا حکومت واقعی اقتدار عوام کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔