LIVE
Loading Breaking News...

نئی دہلی میں کاکروچ احتجاج، ابھیجیت ڈپکے اور سوربھ داس گرفتار

News Image
نئی دہلی میں متوقع احتجاجی مارچ سے پہلے بھارتی حکام نے سخت ترین سکیورٹی اقدامات کرتے ہوئے پایتخت کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ اس دوران 'کاکروچ' گروپ کے رہنماؤں ابھیجیت ڈپکے اور سوربھ داس سمیت ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل بھارتی دارالحکومت میں شدید کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں حکام نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد پایتخت میں ہونے والے احتجاج کو ناکام بنانا تھا، جس کے لیے شہر بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اہم مقامات کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ حکارتی ذرائع اور احتجاجی گروپوں کا کہنا ہے کہ اس دباؤ کے باوجود صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق معروف 'کاکروچ' گروپ کے رہنما ابھیجیت ڈپکے اور سوربھ داس کو بھی پولیس نے اس کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لے لیا ہے۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے نہ صرف مرکزی رہنماؤں کو نشانہ بنایا بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں عام کارکنوں اور نوجوانوں کو بھی مختلف مقامات سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور سڑکوں پر عام نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور احتجاجی رہنماؤں کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن حکومت طاقت کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سخت گیر رویے سے دارالحکومت میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور حکومت کو اندرونی و بیرونی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال نئی دہلی کے اکثر حصوں میں پولیس کی جانب سے سخت ناکہ بندی جاری ہے اور آنے جانے والے راستوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہر میں کسی بھی قسم کے بڑے ہنگامے کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری تھے، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والے گروپوں نے اپنے مطالبات کے حق میں جدوجہد جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔