LIVE
Loading Breaking News...

ویوو وی 80 ایف ای انڈونیشیا سرٹیفیکیشن پر ظاہر، بھارت میں لانچ متوقع

News Image
معروف سمارٹ فون ساز کمپنی ویوو کا ایک اور نیا ماڈل انڈونیشیا کی سرٹیفیکیشن ویب سائٹ پر دیکھا گیا ہے جس سے اس کی جلد مارکیٹ میں آمد کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس ڈیوائس کے حوالے سے ٹیکنالوجی کے حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور بھارت سمیت دیگر ایشیائی مارکیٹس میں بھی اس کی لانچ کی امید کی جا رہی ہے۔
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ویوو اپنے نئے اسمارٹ فون پورٹ فولیو کو وسعت دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں ویوو کا ایک اور نیا ماڈل جو کہ ویوو وی 80 ایف ای کے نام سے منسوب ہے، انڈونیشیا کی ایس ڈی پی پی آئی (SDPPI) سرٹیفیکیشن ویب سائٹ پر دیکھا گیا ہے۔ اس سرٹیفیکیشن کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ کمپنی اس فون کو بہت جلد بین الاقوامی مارکیٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ سرٹیفیکیشن دستاویزات میں فون کے حوالے سے کچھ ابتدائی اشارے ملے ہیں جن سے ٹیکنالوجی کے شوقین افراد میں تجسس بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ ویوو کے اس نئے فون کے تمام تکنیکی مواصفات اور خصوصیات ابھی تک باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئے، تاہم انڈونیشیا کے علاوہ اس کے بھارت میں بھی لانچ کیے جانے کی مضبوط توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ویوو وی 80 سیریز کے دیگر ماڈلز کی طرح یہ ڈیوائس بھی صارفین کو جدید فیچرز اور بہترین کارکردگی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس سے قبل ویوو وی 80 کے دیگر ورژنز اور قیمت کے حوالے سے بھی مختلف مارکیٹس میں بحث جاری ہے، جہاں صارفین امید کر رہے ہیں کہ یہ نیا ایف ای ماڈل مناسب قیمت پر بہترین ویلیو فراہم کرے گا۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویوو اسمارٹ فونز اپنی کیمرہ ٹیکنالوجی اور سلیقہ مند ڈیزائن کی وجہ سے نوجوان طبقے میں کافی مقبول ہیں۔ ویوو وی 80 ایف ای کی آمد سے درمیانی قیمت کے زمرے میں مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا۔ جیسے ہی یہ ڈیوائس مختلف ریگولیٹری اداروں سے مزید سرٹیفیکیشنز حاصل کرے گی، اس کے بارے میں قیمت، بیٹری کی صلاحیت اور پروسیسر کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ جائیں گی۔ مداح اور ٹیکنالوجی کے شائقین اس فون کے باضابطہ اعلان کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ویوو کی جانب سے اس اسمارٹ فون کی لانچ کی تاریخ اور دستیابی کے حوالے سے باضابطہ پریس ریلیز جاری کی جائے گی، جس میں پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا سمیت دیگر اہم علاقائی مارکیٹس کے لیے بھی لائحہ عمل واضح کیا جائے گا۔