World
پولیس کے قانونی استثنا کے خلاف اہم پارلیمانی تحریک کا آغاز
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے نئی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جھوٹے شواہد گھڑنے یا غفلت برتنے کی صورت میں پولیس کو حاصل استثنا کا خاتمہ کرنا ہے۔
برطانیہ میں قانون سازوں نے ایک اہم اقدام کے تحت اس فیصلے کو پلٹنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں جو پولیس کو ان کی غفلت، بددیانتی یا شواہد میں گڑبڑ کرنے جیسے معاملات میں عدالت میں سزائے واروار یا مقدمے کی زد میں آنے سے بچاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اراکین کا ماننا ہے کہ پولیس کے اندر احتساب کے نظام کو مزید شفاف اور سخت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال رہ سکے۔ اس نئی تحریک کا بنیادی مقصد اس پرانے قانونی اصول کو چیلنج کرنا ہے جس کے تحت پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بعض مخصوص حالات میں قانونی استثنا حاصل ہوتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پولیس اہلکار جان بوجھ کر جھوٹے شواہد بناتا ہے، سنگین غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے یا بددیانتی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے عام قانون کی طرح کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اس قانون سازی کی حمایت کرنے والے حلقوں کا مؤقف ہے کہ استثنا کا یہ غلط استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد کو انصاف کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، قانونی ماہرین اور پولیس یونینز اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے پولیس اہلکاروں کا مورال گر سکتا ہے اور وہ فیلڈ میں فرائض انجام دیتے ہوئے ضرورت سے زیادہ دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، عوامی سطح پر اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس بِل کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے تاکہ پولیس کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں اس پر گرما گرم بحث متوقع ہے، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ آیا برطانیہ میں پولیس کے لیے استثنا کے قوانین میں کوئی تاریخی تبدیلی لائی جاتی ہے یا نہیں۔