World
میانمار میں نوجوانوں کی جببرینتھ اور فوج کے ہاتھوں فروخت کا خوف
میانمار کی حکمران فوجی جنٹا کو نسلی ملیشیا اور عوامی مزاحمت کی جانب سے شدید جنگی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کے نوجوان سڑکوں سے زبردستی اغوا کیے جانے اور فوج کے ہاتھوں فروخت کیے جانے کے خوف میں مبتلا ہیں۔
میانمار میں جاری خانہ جنگی اور سیاسی بحران کے دوران عام شہریوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ملک کی حکمران فوجی جنٹا کو اس وقت مختلف نسلی ملیشیاؤں اور عوامی مزاحمتی گروہوں کی طرف سے ایک کڑی اور طویل جنگ کا سامنا ہے۔ جنگ کے اس محاذ پر شکست کے خوف اور سپاہیوں کی شدید کمی کے باعث فوجی حکمران انتہائی مایکنانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں، جس نے ملک بھر میں ایک نیا خوف طاری کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے نوجوان اس مستقل خوف کے سائے میں جی رہے ہیں کہ انہیں کسی بھی وقت سڑکوں سے زبردستی اٹھا لیا جائے گا اور جببرینتھ کے تحت فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔
فوجی جنٹا کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ ملک کے بیشتر حصوں میں مسلح گروہوں نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس پس منظر میں مبینہ طور پر ایسے نیٹ ورک متحرک ہو چکے ہیں جو نوجوانوں کو زبردستی اغوا کر کے یا تو براہ راست فوج کے کیمپوں میں بھیج رہے ہیں یا پھر انہیں فروخت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی شدید ذہنی تناؤ اور خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ والدین اپنے بیٹوں کو گھروں سے باہر بھیجنے سے کتراتے ہیں کیونکہ روزمرہ کے عام کاموں کے لیے باہر جانے والے افراد بھی اس ظالمانہ عمل کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے لیے تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ جبری بھرتیوں کے اس نئے سلسلے نے ملک کے انسانی حقوق کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی سطح پر لوگ اس خوفناک صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کسی بھی قسم کی مخالفت کا نتیجہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
حالات کی اس خرابی کی وجہ سے ملک کے اندر اندرونی نقل مکانی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے نوجوان ملک چھوڑ کر پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میانمار کا یہ بحران اب خطے کے لیے بھی ایک بڑا انسانی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جہاں عام شہریوں کا تحفظ خطرے میں ہے اور فوجی حکومت اقتدار بچانے کے لیے ہر ممکنہ ہتھکنڈا استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔