World
کھمبے سے گر کر معذور ہونیوالے ورکر کو ایک کروڑ پاؤنڈ ہرجانہ
برطانیہ میں بجلی کے کھمبے سے تیس فٹ بلندی سے گر کر فالج کا شکار ہونے والے ورکر کو ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈ کا بڑا ہرجانہ ادا کر دیا گیا ہے۔ ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مناسب حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے اس افسوسناک حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک افسوسناک صنعتی حادثے کے نتیجے میں مستقل معذور ہو جانے والے ورکر گیون پُوگ (Gavin Pugh) کو ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈ کا بھاری معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ ایک بلند و بالا بجلی کے کھمبے پر کام کر رہے تھے اور اچانک توازن بگڑنے کی وجہ سے تقریباً تیس فٹ کی بلندی سے نیچے زمین پر آ گرے۔ اس خطرناک زوال کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث ان کا نچلا جسم مستقل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور وہ اب اپنی روزمرہ کی زندگی کے لیے بھی وہ دوسروں کے محتاج ہو چکے ہیں۔
حادثے کے فوری بعد برطانوی ادارے 'ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو' (HSE) نے اس پورے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا کہ اگر کام کے دوران تمام ضروری اور بنیادی حفاظتی انتظامات اور معیاری ایس او پیز (SOPs) کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جاتا، تو اس سانحے سے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر ورکر کی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے وہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تھیں جو کہ اس نوعیت کے بلند اور خطرناک کاموں کے لیے قانونی طور پر لازم ہوتی ہیں۔
قانونی جنگ اور تفصیلی کارروائی کے بعد عدالت نے متاثرہ ورکر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو ایک کروڑ پاؤنڈ کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے طبی اخراجات اور بحالی کے مراحل کو بہتر طریقے سے چلا سکے۔ اس بڑے فیصلے کے بعد صنعتی اور کارپوریٹ حلقوں میں ایک بار پھر ورکرز کی سیفٹی اور تحفظ کا موضوع بحث بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مالی نقصانات سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ تمام ادارے اپنے ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے گریز کریں تاکہ آئندہ اس قسم کے المناک حادثات کو روکا جا سکے۔