World
اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کی معطل کا مطالبہ، ڈاکٹروں کا عالمی تنظیم کو خط
دنیا بھر کے سینکڑوں ڈاکٹروں نے عالمی طبی تنظیم کے نام خط میں مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی ہیلتھ کیئر کی تباہی پر خاموشی اختیار کرنے پر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کو معطل کیا جائے۔ ان طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور دیگر علاقوں میں طبی ڈھانچے کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں معزز ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (WMA) کو ایک پرزور خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کی رکنیت فوری طور پر معطل کی جائے۔ اس خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی طبی تنظیم نے فلسطینی علاقوں میں ہیلتھ کیئر کے نظام کی منظم تباہی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جو کہ انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خط پر دستخط کرنے والے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں اسپتالوں، طبی عملے اور ایمبولینسز پر ہونے والے حملوں کے دوران اسرائیلی طبی تنظیم کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا ہے اور انہوں نے اس بربریت کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں کی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی طبی تنظیم کے منشور کے مطابق تمام اراکین کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ جنگ اور بحران کی صورت میں بھی طبی عملے اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں غزہ میں صحت کا پورا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے اور مریض علاج کی عدم دستیابی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں اسرائیلی طبی تنظیم کو عالمی پلیٹ فارم پر برقرار رکھنا بین الاقوامی طبی اصولوں کی تضحیک کے مترادف ہے، اس لیے تنظیم کو فوری طور پر تادیبی کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔
اس خط کے بعد عالمی سطح پر طبی حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس مطالبے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی طبی تنظیم نے اس معاملے پر سنجیدہ نوٹس نہ لیا تو اس سے ادارے کی غیر جانبداری اور ساکھ پر گہرے سوالات اٹھیں گے۔ دوسری جانب، دنیا بھر کے مختلف اسپتالوں سے تعلق رکھنے والے طبی عملے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور عالمی سطح پر انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔