LIVE
Loading Breaking News...

رياض ایئرپورٹ پر حملہ، 12 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی

News Image
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک خطرناک حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد حکام نے ایئرپورٹ پر تمام فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
سعودی عرب کے سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک شدید حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ مرنے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ دو بنگلہ دیشی، ایک امریکی، ایک مصری، ایک اردنی، ایک شامی، ایک فلسطینی اور ایک سوڈانی شہری شامل ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد حکام نے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام آپریشنز فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، جبکہ دنیا بھر کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق، حملے کے بعد 155 آنے والی اور 161 جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 222 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کی جانب جانے والی پروازوں کا رخ موڑ کر انہیں زیادہ تر جدہ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے اس حملے کے پیچھے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کا شبہ ظاہر کیا ہے، اگرچہ باغیوں کی طرف سے اس روز کسی نئے حملے کا فوری طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود چشم دید گواہوں کے مطابق زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد افراتفری پھیل گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔ صحت کے حکام نے دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے تمام ایمرجنسی ڈاکٹروں کو فوری طور پر اپنی ڈیوٹیاں سنبھالنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک طبی ذرائع نے بتایا کہ شدید زخمیوں کو ریاض کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔ امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور اسپین سمیت کئی غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کرتے ہوئے ہوائی اڈے کے علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سفارتی عملے کے سفر پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ یمنی حکومت کے حالیہ جوابی حملوں کے بعد باب المندب کے اسٹریٹجک علاقے میں جھڑپیں تیز ہو گئی ہیں، جہاں حوثی جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان زمینی محاذ آرائی جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد توانائی کی سپلائی اور عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے سفارت کاری کے بجائے جنگ جاری رکھنے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔