LIVE
Loading Breaking News...

ایمان مزاری سکیورٹی کیس: اے ٹی سی نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

News Image
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھا کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست کو مناسب مرحلہ نہ ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے جیل حکام کی جانب سے ملزمان کو پیش نہ کرنے پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے سکیورٹی اسکواڈ فراہم نہ کرنے کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا۔
اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے ہفتہ کے روز انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھا کے خلاف انگریزی کرکٹ ٹیم کے لیے لگائے گئے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے کارروائی کے آغاز میں جیل حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کے باوجود ملزمان کو ذاتی طور پر پیش نہ کیے جانے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد وقفے کے دوران جیل حکام کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔ اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا اس مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں جس میں ملزم جوڑے نے دہشت گردی کی دفعات عائد کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ سماعت کے دوران ابتدائی طور پر جب ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے تو جج نے پراسیکیوشن اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر جیل حکام سے رابطہ کریں اور ملزمان کی عدم موجودگی کی وجہ معلوم کریں۔ جج کے حکم پر بعد ازاں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ اس موقع پر ڈاکٹر شیریں مزاری اور ان کے وکیل بھی عدالت میں موجود تھے۔ وقفے کے بعد جب عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے نمٹا دیا کہ وکلاء کی عدم موجودگی اور مناسب دلائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس درخواست پر ریلیف دینے کا مناسب مرحلہ نہیں ہے۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس ملزمان کو عدالت لانے کے لیے سکیورٹی اسکواڈ یا پروٹوکول فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی، جس کی وجہ سے انہیں پیش نہیں کیا جا سکا۔ وکیل صفائی نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ایک طرف ملزمان سے بیانات قلمبند کرنے کا کہتی ہے تو دوسری طرف خود انہیں عدالت لانے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ واضح رہے کہ اس جوڑے کو رواں سال جنوری کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور دیگر دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کی کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی ہے جبکہ اس کیس میں قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔