World
کیف پر روسی میزائل حملے اور روسی جہاز کی تباہی
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی بالسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب یوکرینی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحیرہ اسود میں روس کا ایک کنٹینر بحری جہاز ڈبو دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی بالسٹک میزائلوں کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد جاں بحق اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ روسی افواج نے ایک بار پھر شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق کیف کے مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حملے سے شہر کے کئی حصوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی عارضی طور پر متاثر ہوا ہے۔
دوسری جانب، جنگ کے دوران یوکرین نے بھی ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے بحیرہ اسود کے قریب روس کا ایک کنٹینر بحری جہاز کامیابی سے ڈبو دیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جدید ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی، جس نے روسی رسد اور سپلائی لائن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بحیرہ اسود کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مسلسل معرکہ آرائی جاری ہے۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے فوری طور پر اس بحری جہاز کے ڈوبنے کے دعوے کی مکمل تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، تاہم ماسکو نے کیف پر ہونے والے میزائل حملوں کو اپنے اہداف کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے حالیہ دنوں میں حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے ایک بار پھر فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں۔