LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا اقوام متحدہ میں سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کا اعادہ

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا بھرپور اعادہ کیا ہے۔ پاکستان نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے یمنی بحران کے پرامن سیاسی حل پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا بھرپور اعادہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق ماہانہ بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ پاکستان مملکت کے خلاف کسی بھی خطرے کے وقت سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ارشادات کے عین مطابق سعودی عرب کے دفاع اور اس کے شہروں کی حفاظت کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پاکستانی مندوب نے مکہ گورنوریٹ اور مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ و ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن میں شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حوثی ملیشیا کو فوری طور پر ان تمام حملوں کو روکنا ہوگا اور حرمین شریفین کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یمن کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کی خودمختاری، اتحاد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باب المندب کے قریب حوثی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری حدود کی حفاظت اور بحری تجارت کی آزادی پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی کوششوں کی بھی تحسین کی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے یمن کے سنگین انسانی بحران پر روشنی ڈالی اور امدادی سامان کی بلا تعطل ترسیل، ضروریات زندگی کی فراہمی اور حراست میں لیے گئے تمام انسانی کارکنوں کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ کیا تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔