LIVE
Loading Breaking News...

نضال حسن کی سزائے موت کی لائیو نشریات پر ٹرمپ کا بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2009 کے فورٹ ہڈ حملے کے مجرم نضال حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کو لائیو نشر کرنے کے منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اس مجوزہ لائیو نشریات پر اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں پر حملے کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو لائیو نشر کرنے کے منصوبے کے حوالے سے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہ منصوبہ، جو تین دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہڈ میں طے شدہ ہے، کو لے کر سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ نضال حسن کو 2009 میں تیرہ افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور یہ 1945 کے بعد امریکی فوج کی طرف سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پہلی سزائے موت ہوگی۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اس پھانسی کو لائیو نشر کیا جائے گا، جس کی تائید وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے اس بیان سے بھی ہوئی تھی کہ لوگ اسے براہ راست دیکھ سکیں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے، جو اس معاملے میں سزائے موت کے حامی ہیں، اس بات کو یقینی قرار نہیں دیا کہ نشریات عوامی سطح پر دکھائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکام اس کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن مجرم کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ لائیو نشریات درحقیقت ہوں گی یا نہیں۔ انہوں نے مجرم کے عمل کو نائن الیون کے بعد امریکی سرزمین پر بدترین دہشت گردانہ حملہ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ اگر یہ نشریات ہوئیں تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔ دوسری طرف، ڈیموکریٹک سینیٹر مارک کیلی اور دیگر عالمی شخصیات کی جانب سے اس عمل پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دیگر اداروں کا کہنا ہے کہ سزائے موت کو لائیو نشر کرنا تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ایک سفاکانہ روایت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ نضال حسن نے 2013 کی فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزائے موت کے خلاف مقدمے میں خود اپنا دفاع کیا تھا اور اسے ایک فوجی جیوری نے موت کی سزا سنائی تھی۔