World
امریکہ میں سزائے موت کی لائیو نشریات اور سیاسی بحران
امریکہ میں فورٹ ہڈ کے مجرم نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکہ میں وسطی مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنے سیاسی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے انتہائی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی پینٹاگون کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر تیرہ افراد کو قتل کرنے کے مجرم نضال حسن کو 3 دسمبر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اس ہولناک عمل کی براہ راست نشریات کو یقینی بنائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دائیں بازو کے امریکی میڈیا اور ریپبلکن امیدواروں کی جانب سے اسلام فوبیا اور اس طرح کے اقدامات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا ایک پرانی روایت بن چکا ہے۔ سیاسی حریفوں کا ماننا ہے کہ ڈیموکریٹک سیاستدانوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ٹرمپ انتظامیہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے لیے مسلم مخالف جذبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اگرچہ نضال حسن کو امریکی عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی ہے اور قانونی طور پر وہ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، لیکن اس سزائے موت کو ایک عوامی تماشے میں تبدیل کرنا اور اس کی لائیو اسٹریمنگ کا اعلان کرنا سیاسی تاریخ کی ایک انتہائی نچلی سطح ہے۔ اس فیصلے پر امریکہ کے اندر اور باہر دونوں اطراف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور سیاسی ناقدین اس کی تشبیہ بیسویں صدی کے اوائل میں سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ ہونے والے لِنچنگ کے ہولناک واقعات سے دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات امریکہ کو دنیا کے ان گنے چنے آمریت پسند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جو سرعام سزائے موت کے حامی ہیں۔ اس پورے معاملے نے امریکی معاشرے اور اس کے سیاسی نظام میں موجود خامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے اور یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا امریکہ خود ان اقدار اور نظاموں کی عکاسی کرنے لگا ہے جن کی وہ دنیا بھر میں مخالفت کرتا ہے۔