World
ریاض ایئرپورٹ پر حملہ بارہ افراد ہلاک تین سو زخمی
سعودی حکام کے مطابق دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک شدید حملے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے میں متعدد سویلینز اور ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے اہم ترین بین الاقوامی ایئرپورٹ کو ایک بڑے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ سعودی حکام اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس پرتشدد واقعے نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی طرف سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر افراد کی شناخت اور زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس حملے کے پیچھے حوثی عسکریت پسندوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے، جس نے خلیجی خطے میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد ریاض ایئرپورٹ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت ترین انتظامات کر دیے گئے ہیں جبکہ تمام پروازوں کے شیڈول کو عارضی طور پر معطل یا ری شیڈول کیا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں ایمرجناف نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز شدید زخمیوں کی جان بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی شدید مذمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں نے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران امریکی حکام کی جانب سے بھی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور خطے میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال کے بعد دفاعی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی طاقتیں اس بحران کو تھامنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔