LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں فیول سبسڈی سے ایک کروڑ افراد مستفید

News Image
عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پاکستان میں حکومتی سبسڈی سے ایک کروڑ سے زائد کم آمدنی والے افراد کو ریلیف ملا ہے۔ آئی ایم ایف کے تحفظات کے باوجود حکومت اس اسکیم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ اس مشکل صورتحال میں حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ایندھن کی سبسڈی سے ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد کم آمدنی والے افراد کو براہ راست ریلیف ملا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے گزر بسر کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور ڈان سمیت بین الاقوامی اور ملکی میڈیا نے اس اقدام کو سراہا ہے تاہم اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ اب بھی کچھ مستحق افراد اس اسکیم سے باہر رہ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اس ایندھن سبسڈی اسکیم کا تفصیلی جائزہ لیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امداد صرف اور صرف واقعی مستحق اور غریب طبقے تک ہی پہنچے۔ حکومت کا یہ موقف ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں غریب عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا اور انہیں ریاست کی طرف سے بنیادی سہولیات اور مالی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستان اس سبسڈی کے نظام کو بتدریج ختم کرے تاکہ معاشی اصلاحات کو آگے بڑھایا جا سکے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی حکومت نے عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فی الحال اس سبسڈی اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سبسڈی کے جاری رہنے سے جہاں ایک طرف حکومت کے مالیاتی خسارے پر دباؤ پڑتا ہے، وہیں دوسری طرف مہنگائی کے ستائے ہوئے کروڑوں شہریوں کو عارضی طور پر ایک بہت بڑا ریلیف بھی ملتا ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ سبسڈی کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور کوئی بھی مستحق شہری حکومتی امداد سے محروم نہ رہے۔