LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ بندی اور نوبل انعام پر نیا دعویٰ

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کامیابی کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ کام کیا۔ انہوں نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناروے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ اپنے نام کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ کوششیں کیں۔ ٹرمپ نے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں دیے ہیں جب حال ہی میں امن کے نوبل انعام کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے اور سابق آئی سی سی جج ناوی پلے کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ٹرمپ اس فیصلے پر انتہائی برہم نظر آئے اور انہوں نے اس انتخاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنے حالیہ بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں کئی دہائیوں پرانے تنازعات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی مداخلت کی بدولت دونوں ایٹمی قوتیں ایک بڑی جنگ سے بچ گئیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کا بھی طویل عرصے سے یہی مؤقف رہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں کئی بین الاقوامی محاذوں پر امن قائم ہوا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر امن کے نوبل انعام کے اعلان کے بعد مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ سابق آئی سی سی جج ناوی پلے کو 2026 کا نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے جنہوں نے اپنا یہ اعزاز بین الاقوامی جرائم سے بچ جانے والے افراد کے نام کیا۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے اس انعام کی تقرری پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے اور ناروے کی کمیٹی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے، جو ماضی میں بھی نوبل انعام کے حوالے سے سابق صدر کے ساتھ تنازعہ کا شکار رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت سیز فائر کا بار بار ذکر کرنا ان کی انتخابی حکمت عملی اور سیاسی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں شامل رہی ہیں، لیکن ٹرمپ نے ہمیشہ اس معاملے میں ذاتی طور پر پیش پیش رہنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عالمی میڈیا میں اس پرمختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کے ناقدین ان کے ان دعوؤں کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہیں۔