World
بھارت: 'کوکرتھ' تحریک کے سربراہ اور سینکڑوں مظاہرین گرفتار، نئی دہلی میں سخت سکیورٹی
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے قبل حکام نے ’کوکرتھ‘ تحریک کے سربراہ سمیت سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے ممکنہ احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے شہر بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرتے ہوئے سڑکیں بند کر دی ہیں۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں اور مبینہ دھاندلی کے خلاف ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے محض چند گھنٹے قبل حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مشہور زمانہ ’کوکرتھ‘ تحریک کے سربراہ اور دیگر اہم رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے دارالحکومت کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی کی گئی ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کا مقصد دارالحکومت میں ہونے والے اس احتجاج کو ہر قیمت پر ناکام بنانا ہے۔ پولیس نے شہر کے مختلف حصوں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے باوجود مظاہرین اور طلباء تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ تحریک کے رہنماؤں نے اس کارروائی کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور ملک بھر کے شہریوں سے پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت کے سیاسی منظر نامے پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والا یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں اور طلباء کی شرکت متوقع تھی۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس احتجاج سے پہلے ہی اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریوں اور شہر گیر لاک ڈاؤن نے حکومت کی پریشانی کو واضح کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک نئی دہلی کے کئی علاقوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس نے احتجاجی مقامات کی طرف جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کر رکھا ہے۔