Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں کمی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے روز بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں تین سو سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے باوجود مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں مارکیٹ میں شروعاتی سیشن کے دوران ملنے والے معمولی فوائد برقرار نہ رہ سکے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس تین سو باون پوائنٹس سے زائد کی کمی کے ساتھ بند ہوا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اور غیر یقینی کی فضا کے باعث حصص بازار میں فروخت کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے جس نے حالیہ چند دنوں کی تمام تر بہتری کو زائل کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ حکومت کے معاملات طے پا چکے ہیں اور قرض پروگرام کی بحالی کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس کے باوجود معاشی محاذ پر پائی جانے والی بے یقینی کے بادل تاحال چٹ نہیں سکے۔ کاروباری اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے حوالے سے ہچکچاہٹ محسوس کی جا رہی ہے جس کا براہ راست اثر حصص بازار کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ مارکیٹ کے مختلف سیکٹرز میں فروخت کا رجحان غالب رہا اور مجموعی انڈیکس نیچے کی طرف سرک گیا۔
اس ہفتے کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے۔ ہفتہ وار مارکیٹ کے جائزے کے مطابق ابتدائی سیشنز میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے تھے جن کی وجہ سے شیئر ہولڈرز میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی، تاہم یہ تیزی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہو سکی اور اختتامی سیشنز میں شدید مندی نے بازار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ملک میں مہنگائی کی شرح، شرح سود اور سیاسی و معاشی استحکام سے متعلق واضح سمت کا تعین نہیں ہوتا، اس وقت تک اسٹاک مارکیٹ میں اس قسم کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔