World
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر اور تاریخی درجہ حرارت
جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جہاں درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔ وزیرِ اعظم نے گرمی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ہنگامی احکامات جاری کر دیے ہیں۔
جنوبی کوریا ان دنوں شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث ملک بھر میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ حالیہ گرمی کی لہر نے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور ملک کا درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے اس ماحول میں شہریوں نے گرمی سے بچنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی کو مشکل بنایا ہے بلکہ زرعی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے ملک بھر میں فارمز خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے وزیرِ اعظم ہان نے ملک میں ہنگامی احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ گرمی اور خشک سالی کے ممکنہ اثرات سے نمٹا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ دوسری طرف، ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایک طوفان کے آنے سے صورتحال میں مزید پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں گرمی کی یہ لہر مزید طویل ہو سکتی ہے۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔ اسکولوں اور دفاتر میں بھی حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ شہریوں کو ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات سے بچایا جا سکے۔