LIVE
Loading Breaking News...

ڈپریشن یا بائپولر ڈس آرڈر: چودہ سال بعد حیرت انگیز انکشاف

News Image
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی کمبرلی اٹকিনسن کو چودہ سال تک غلط طور پر ڈپریشن کا مریض سمجھا جاتا رہا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ وہ دراصل بائپولر ڈس آرڈر کی بیماری میں مبتلا تھیں۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی کمبرلی اٹকিনسن کو طویل عرصے تک ایک ایسی بیماری کا سامنا کرنا پڑا جس کی تشخیص میں چودہ سال کا طویل عرصہ لگ گیا۔ کمبرلی کا کہنا ہے کہ انہیں شروع دن سے یہی بتایا جاتا رہا کہ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہیں، اور اسی بنیاد پر ان کا علاج کیا جاتا رہا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ ادویات اور تھراپی کے باوجود ان کی صحت میں کوئی خاص بہتری نہیں آرہی تھی بلکہ ان کی علامات وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی تھیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ڈپریشن اور بائپولر ڈس آرڈر کی علامات میں کئی مقامات پر مماثلت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات درست تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ کمبرلی کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا جہاں طویل عرصے تک اصل مرض کی بجائے صرف علامات کا علاج کیا جاتا رہا۔ صورتحال اس وقت ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی جب کمبرلی کے رویے میں انتہائی نوعیت کی تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔ ان کے رویے میں اچانک تیزی، غیر معمولی جوش اور پھر گہرے زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے، جس کے بعد طبی عملے کو انہیں اسپتال میں داخل کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ اسپتال میں تفصیلی جانچ پڑتال اور ماہرینِ نفسیات کی نگرانی کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کمبرلی ڈپریشن نہیں بلکہ بائپولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder) کا شکار ہیں۔ اس نئی تشخیص کے بعد ان کا علاج درست سمت میں شروع کیا گیا جس سے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل میں درست تشخیص انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ غلط تشخیص نہ صرف مریض کا وقت اور پیسہ برباد کرتی ہے بلکہ اس کی صحت کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔ کمبرلی اٹকিনسن کا یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ذہنی صحت کے شعبے میں مزید گہرائی اور احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی مریض کو سالوں تک غلط علاج کا سامنا نہ کرناپڑے۔