LIVE
Loading Breaking News...

ریاض میں حملے اور ہلاکتیں، امریکہ کا حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کا فیصلہ

News Image
ساؤدی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد واشنگٹن میں حوثیوں اور ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں تنازعہ ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں ساؤدی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ریاض میں ہونے والے ان حالیہ نقصانات نے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور خطے میں عسکری سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ موجودہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی میں براہ راست شامل ہونے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ایران کے خلاف بھی دوبارہ سے فضائی یا عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا جائے یا نہیں۔ اگر امریکہ اس تنازع میں باضابطہ طور پر کود پڑتا ہے تو اس کے خطے پر انتہائی دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے تاکہ خطے کے عوام کو مزید انسانی المیے سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اس وقت مکمل جنگ کی عکاسی کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔