LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کا عزم اور دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

News Image
ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سلامتی اور دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی سرزمین اور اس کی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ ترجمان کا یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے حوالے سے مختلف امور زیر غور رہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں تو مکمل مدد فراہم کرے گا، لیکن یمن کے تنازع میں کسی بھی قسم کی جارحیت یا عسکری کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ پالیسی پاکستان کے اس پرانے موقف کی عکاس ہے کہ وہ خطے میں کسی نئی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن اور مصالحتی کردار کو ترجیح دیتا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے خطے کی دیگر اہم سفارتی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بدستور جاری رکھی گئی ہیں۔ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پائیدار بات چیت ہی خطے کے استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے، اور اس مقصد کے لیے پاکستانی قیادت دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ سفارتی حلقوں میں پاکستان کی اس مصالحتی کوشش کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کا تنازع براہ راست خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کی معیشت اور سلامتی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال اور افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی دوٹوک مؤقف اپنایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کابل میں عبوری حکومت خطے کے تمام ممالک کے خدشات کو مدنظر رکھے گی اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن اور امن دوست ہے، جو تمام فریقین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔