Politics
بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑنے کا مشورہ، کے پی میں ایمرجنسی پر غور
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ انتہا پسندانہ سیاست چھوڑ دے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں انتہا پسندانہ سیاست کو فوری طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی نہ صرف ملک کے لیے بلکہ خود اس سیاسی جماعت کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاست میں مذاکرات اور جمہوری رویے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں لیکن انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرنے سے قومی سلامتی اور جمہوریت دونوں خطرے میں پڑتے ہیں۔
ادھر ملک کے سیاسی حلقوں میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی اور امن و امان کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس متوقع ہے جس میں سیکیورٹی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس اجلاس میں صوبے کے تقریبا بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج لگانے جیسے اہم اور سخت آئینی اقدامات کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ صوبائی سطح پر امن و امان کی خراب صورتحال اور سیاسی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے اب سخت اقدامات اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ صوبے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے امن کو متاثر کر سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں ملک میں سیاسی استحکام کی خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی اور قانونی آپشنز زیرِ غور لائے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے۔