Pakistan
پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا اہم بیان
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی دستے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
راولپنڈی: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی دستے پہلے سے ہی متعدد شعبوں اور مختلف صلاحیتوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ موجودگی دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلے آ رہے دفاعی اور تزویراتی تعاون کا تسلسل ہے۔
ترجمان پاک فوج نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیش رفت اور بالخصوص مکہ معاہدہ پاک سعودی عرب کے دیرینہ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور دونوں ملکوں کی افواج باہمی سلامتی کے امور پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہیں۔
اس موقع پر خطے کی سکیورٹی اور بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور تعاون کا ذکر کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کو عسکری و دفاعی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دونوں برادر ممالک کے مابین سٹریٹجک شراکت داری مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔