Politics
حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش، رانا ثناء اللہ کا بیان
مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی ناجائز مطالبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی غیر آئینی اور ناجائز مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملک کی بہتری کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا واحد ایجنڈا ملک کے اندر سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کرنا ہے جس سے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کو وفاق کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ صوبائی خودمختاری اور آئین کی روح کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وسائل کو اس طرح کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
حکومتی ترجمان اور مشیر سیاسی امور نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے نہ کہ سڑکوں پر احتجاج اور دھرنے دینے سے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر رہ کر اپنے مسائل حل کریں تاکہ ملک میں پائیدار امن اور جمہوریت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعت کو دعوت دی کہ وہ ضد چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئیں اور آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے معاملات طے کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی قیادت ہوش سے کام لے گی اور ملک دشمن عناصر کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دے گی تاکہ ملک مزید کسی بھی بحران سے محفوظ رہ سکے۔