LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، سیاسی اور آئینی بحران گہرا گیا

News Image
پاکستان کے صدر نے سکیورٹی کی ابتر صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ دوسری طرف صوبائی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور ان کی جماعت نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اس وقت انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب صدر مملکت نے خیبر پختونخوا کے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی جانب سے صوبے کی ابتر سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کی گئی سفارشات کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت قائم ہے، اور اس فیصلے کے بعد مرکز اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی مزید تیز ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ صوبائی وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کی قیادت نے فوری طور پر اس اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے نافذ کی جانے والی یہ ایمرجنسی اور مبینہ طور پر گورنر راج کا نفاذ قطعی طور پر ناقابل قبول اور غیر آئینی ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہر آئینی اور سیاسی فورم پر بھرپور مزاحمت کریں گے کیونکہ صوبے کے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک کے اس اہم ترین صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پہلے ہی امن و امان کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف سکیورٹی کے امور پر اثر پڑے گا بلکہ ملکی سیاسی فضا میں بھی شدید گرمی پیدا ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وفاقی حکومت پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا جا رہا ہے، جس سے ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کے جنم لینے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ آئینی ماہرین اس صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے، جس سے قانون اور آئین کی تشریح پر مزید بحث چھڑ جائے گی۔ اس وقت پورے ملک کی نگاہیں خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔