LIVE
Loading Breaking News...

افغان میڈیکل طلباء کی پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کی اپیل

News Image
پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلباء نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں 86 افغان میڈیکل طلباء کی ملک بدری کے احکامات پر فی الحال روک لگا دی ہے۔
پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلباء اور نوجوان ڈاکٹروں نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے احکامات کے تحت ملک بدری کے فیصلوں کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی کیریئر کے انتہائی اہم مراحل میں ہیں اور عین اس وقت جب ان کے کورسز تکمیل کے قریب ہیں، ان کی وطن واپسی ان کے مستقبل کو تباہ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنی تعلیم کا تعطل دور کرتے ہوئے کورس مکمل کرنے کی خصوصی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے 86 افغان میڈیکل طلباء کی ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ان طلباء کے لیے ایک بڑی عارضی راحت کے طور پر سامنے آیا ہے جو اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔ طلباء اور ان کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں طبی شعبے میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ دریں اثنا، پاکستانی حکام کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کے لیے جامع پالیسی پر عمل جاری ہے، تاہم تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم اسٹوڈنٹس کے معاملات پر مختلف حلقوں کی جانب سے نرمی برتنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کا بھی یہی ماننا ہے کہ زیر تعلیم نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا خطے کے مفاد میں ہے اور تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے حکام کو لچکدار رویہ اپنانا چاہیے۔