World
یمن کا محاصرہ: تعز کے ہسپتال تباہی کے قریب، حکومتی کارروائی
یمنی حکومت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ حوثیوں کے سخت محاصرے کی وجہ سے تعز کے ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی افواج نے اہم آبی گزرگاہ کے قریب حوثیوں کے خلاف پیش قدمی تیز کر دی ہے۔
یمنی حکومت نے سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہر کا سخت محاصرہ کیے جانے کے بعد تعز کے ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ طبی آلات اور ادویات کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹروں کو مریضوں کی دیکھ بھال میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حوثیوں کے اس محاصرے نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر فوری طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب یمنی حکومتی افواج اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز نے ایک اہم آبی گزرگاہ کے اطراف میں پیش قدمی کی ہے اور حوثی ملیشیا کو پسپا کرنے کے لیے حکمت عملی کے تحت حملے کیے جا رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ ریاض میں ہونے والے ایک ہلاکت خیز حملے کے بعد یہ کارروائیاں مزید ناگزیر ہو گئی تھیں تاکہ خطے میں دہشت گردی اور ملیشیا کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔
یمنی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مختلف محاذوں پر سخت لڑائی جاری ہے اور فوج کی پیش قدمی کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق دارالحکومت صنعا اس وقت سب سے بڑا اور اہم معرکہ بنا ہوا ہے جہاں حوثی باغیوں کے خلاف حتمی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان فوجی کامیابیوں کے باوجود عام شہریوں کو درپیش انسانی مشکلات اور ہسپتالوں کی تباہ کن صورتحال نے یمن میں ایک نئے ہنگامی بحران کو جنم دے دیا ہے جس کے حل کے لیے فوری سفارتی اور امدادی کوششوں کی ضرورت ہے۔