LIVE
Loading Breaking News...

ساؤدی عرب یمن جنگ تازہ ترین صورتحال اور حوثی تنازعہ

News Image
ساؤدی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے حوثیوں کے خلاف تازہ فضائی حملوں اور کارروائیوں نے خطے میں ایک بار پھر جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غلط اندازوں اور سیاسی غلط فیصلوں کی وجہ سے یمن کا تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر رہا ہے۔
یمن میں جاری تنازعہ اور خطے میں سعودی عرب کی پالیسیوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں اہم تجزیے سامنے آئے ہیں جن میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ایک کے بعد دوسرے غلط فیصلوں اور غلط اندازوں نے سعودی عرب کو دوبارہ یمن کی جنگ میں الجھا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی طرف سے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں اور عسکری کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس نے امن کی تمام امیدوں کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔ اگرچہ خطے کے عوام مشرق وسطیٰ کی مسلسل کشیدگی اور جنگوں سے انتہائی دلبرداشتہ ہو چکے ہیں اور وہ امن و استحکام کے خواہاں ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں حوثی تنازعہ ابھی اپنے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ریاض کی سلامتی سے متعلق پالیسیاں اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بعض اوقات ایسے نتائج کا باعث بنے ہیں جو ابتدائی حکومتی اہداف سے مختلف تھے۔ اس صورتحال نے نہ صرف یمن کے اندرونی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرائی ہے جہاں روس اور امریکہ کے مابین رابطوں میں بھی خطے کی بدلتی ہوئی حرکیات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے فوری طور پر سیاسی اور سفارتی حل کی طرف پیشرفت نہیں کی گئی تو یہ کشیدگی نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا سکتی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی اور انتہائی منفی ہوں گے۔