Entertainment
اولیویا وائلڈ آسکرز میں تاریخ بنانے کے لیے تیار
معروف ہدایت کارہ اور اداکارہ اولیویا وائلڈ اپنی آنے والی فلم 'دی انوائٹ' میں خود کو اداکاری کی نامزدگی کے لیے ہدایت دینے والی پہلی خاتون بن کر تاریخ رقم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ سنگ میل ہالی ووڈ کی تاریخ میں خواتین کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
ہالی ووڈ کی مشہور و معروف ہدایت کارہ اور اداکارہ اولیویا وائلڈ اپنی آنے والی فلم 'دی انوائٹ' کے ذریعے اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکرز کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اگر وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ فلمی تاریخ کی وہ پہلی خاتون بن جائیں گی جو اپنی ہی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کے لیے بہترین اداکاری کی نامزدگی حاصل کرنے کا اعزاز اپنے نام کریں گی۔ فلمی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی جوش و خروش سے دیکھا جا رہا ہے۔ فلم 'دی انوائٹ' کو لے کر مداحوں اور فلمی نقادوں میں پہلے ہی کافی چہ میگوئیاں جاری ہیں، اور اب اس خبر نے اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اولیویا وائلڈ نے اس سے قبل بھی اپنے منفرد پروجیکٹس کے ذریعے فلمی صنعت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، اور ان کا یہ نیا اقدام صنف نازک کے لیے ہالی ووڈ میں نئی راہیں ہموار کرے گا۔ فلمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اب تک کئی مرد ہدایت کاروں نے خود کو اداکاری کے لیے نامزد کروایا ہے، جن میں سے چند نے یہ اعزاز جیتا بھی ہے، لیکن کسی خاتون کا یہ کارنامہ انجام دینا ایک تاریخی سنگ میل ہوگا۔ شوبز حلقوں میں اس بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے کہ کیا اولیویا وائلڈ اس بڑے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔ فلم 'دی انوائٹ' کی کہانی اور اس کی پروڈکشن کے حوالے سے بھی جلد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اولیویا وائلڈ کا یہ جرات مندانہ قدم نہ صرف ان کے کیریئر کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا بلکہ یہ فلم انڈسٹری میں کام کرنے والی دیگر خواتین کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔ آنے والے دنوں میں اس فلم کی تیاری اور آسکرز کی دوڑ کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آئیں گے، تاہم فی الحال پوری فلمی دنیا کی نظریں اولیویا وائلڈ کے اس تاریخی سفر پر ٹکی ہوئی ہیں۔