Entertainment
سانیہ سعید کی ڈرامہ در نجات اور معاشرتی دوہرے معیار پر گفتگو
نامور پاکستانی اداکارہ سانیہ سعید نے اپنے نئے ڈرامے 'در نجات' کے حوالے سے معاشرتی رویوں اور دوہرے معیار پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ڈرامے کے مختلف کرداروں اور کہانی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
پاکستان کی معروف اور باصلاحیت اداکارہ سانیہ سعید نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنے نئے ڈرامے 'در نجات' اور اس کے مرکزی موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے لیے پائے جانے والے دوہرے معیار کو ہدف تنقید بنایا اور بتایا کہ کس طرح یہ ڈرامہ روایتی اقدار اور ان میں موجود تضادات کو پردہ سکرین پر اجاگر کرتا ہے۔ ڈرامے کی کہانی ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرح اخلاقیات کے نام پر مختلف طبقات کے ساتھ الگ سلوک کرتا ہے۔
اس ڈرامے میں سانیہ سعید کے علاوہ دیگر اہم فنکار بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ناصر ادیب کی تحریر کردہ اس کہانی میں معاشرتی مسائل، خاندانی دباؤ اور فرسودہ روایات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا معاشرہ واقعی اخلاقی اقدار کا پاسدار ہے یا پھر یہ محض چند مخصوص افراد کے لیے بنائے گئے اصولوں کا مجموعہ ہے۔ کرداروں کی تشکیل میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ وہ حقیقی زندگی کے قریب تر محسوس ہوں۔
انٹرویو کے دوران سانیہ سعید نے ڈرامے کے کرداروں، خصوصاً زاریاب اور ابوبکر کی فرمانبرداری اور شفا یابی کے عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو محض ایک نئے رشتے یا شوہر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انہیں ایک آزاد اور پُر وقار زندگی درکار ہوتی ہے۔ ناظرین کی طرف سے اس ڈرامے کو ملا جلا ردعمل مل رہا ہے، جہاں کچھ لوگ اس کی جرات مندانہ کہانی کو سراہ رہے ہیں وہیں کچھ حلقوں میں اس پر بحث بھی جاری ہے۔
ڈرامہ انڈسٹری میں اس طرح کے موضوعات پر بات کرنا اور انہیں ڈرامائی شکل دینا ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ سانیہ سعید کا ماننا ہے کہ فن کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور تلخ حقائق کو سامنے لانا بھی ہے۔ 'در نجات' آنے والے دنوں میں ناظرین کے لیے مزید کتنے نئے سوالات جنم دیتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال اس نے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔