LIVE
Loading Breaking News...

ایان میک ملن کا شاعری اور سوشل میڈیا پر اہم بیان

News Image
برطانوی شاعر ایان میک ملن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نئے شعرا کو روایتی ادبی حلقوں اور گیٹ کیپرز کو نظر انداز کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تخلیق کار براہ راست اپنے قارئین تک پہنچ رہے ہیں۔
معروف برطانوی شاعر اور براڈکاسٹر ایان میک ملن نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ جدید دور کا سوشل میڈیا نئے اور ابھرتے ہوئے شعرا کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوان اور ناتجربہ کار قلم کاروں کو روایتی ادبی حلقوں اور ان کے مقرر کردہ سخت ضابطوں یا گیٹ کیپرز کو باآسانی نظر انداز کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ماضی میں کسی بھی شاعر کے لیے اپنی تخلیقات کو شائع کروانا اور قارئین تک پہنچانا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا تھا جس میں روایتی پبلشرز اور ادبی جریدوں کے اجازت نامے درکار ہوتے تھے۔ ایان میک ملن کا یہ بھی کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس جیسے کہ انسٹاگرام، ٹویٹر اور فیس بک نے شاعری کی دنیا کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب تخلیق کاروں کو اپنی شاعری کی اشاعت کے لیے کسی بڑے اشاعت گھر کی منظوری کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ براہ راست اپنی پوسٹس کے ذریعے لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس براہ راست رابطے کی وجہ سے شعرا اور شائقین کے درمیان حائل روایتی دیواریں گر چکی ہیں اور شاعری عام لوگوں کے لیے زیادہ قابل رسائی بن گئی ہے۔ تاہم، اس رجحان کے حوالے سے ادبی دنیا میں ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف اسے جمہوریت پسندی اور فن کی آزادی کی ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف بعض نقاد یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کوالٹی کنٹرول کمزور ہو رہا ہے اور معیاری شاعری اور سطحی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، ایان میک ملن جیسے تجربہ کار فنکار اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ نئے اور مختلف لب و لہجے کے حامل شعرا کو سامنے آنے کا منصفانہ موقع فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا کا ادبی دنیا میں کردار مزید وسیع ہوگا اور روایتی پبلشنگ ہاؤسز کو بھی اپنے طریقہ کار میں تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ نئے شعرا کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج ڈیجیٹل ہجوم میں اپنی انفرادی آواز کو منوانا ہے، جس کے لیے سوشل میڈیا کا درست اور مؤثر استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایان میک ملن کا یہ تبصرہ اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ آیا ٹیکنالوجی ادب کے معیار کو متاثر کر رہی ہے یا اسے مزید نکھار رہی ہے۔