LIVE
Loading Breaking News...

نوجوانوں میں گھنٹیاں بجانے کا شوق اور سوشل کنکشن

News Image
نوجوان نسل ڈیجیٹل سکرینوں اور سوشل میڈیا کی دنیا سے فرار حاصل کرنے کے لیے گھنٹیاں بجانے کے روایتی ہنر کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ کیٹی اینڈرسن کا کہنا ہے کہ دوسروں کے ساتھ مل کر موسیقی تخلیق کرنا ڈیجیٹل تھکاوٹ کا بہترین علاج ہے۔
موجودہ دور میں جہاں نوجوان نسل کا بیشتر وقت موبائل سکرینز، سوشل میڈیا فیڈز اور ڈیجیٹل دنیا میں گزرتا ہے، وہیں ایک نیا اور دلچسپ رجحان تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ نوجوان اب ڈیجیٹل تھکاوٹ سے بچنے کے لیے پرانے اور روایتی مشاغل کا رخ کر رہے ہیں، جن میں گھنٹیاں بجانے کا فن نمایاں ترین ہے۔ اس روایت کے ذریعے نوجوان نہ صرف ایک منفرد ہنر سیکھ رہے ہیں بلکہ حقیقی زندگی میں باہمی رابطے بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کی تنہائی سے نکال کر کمیونٹی کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کیٹی اینڈرسن نے بتایا کہ دوسرے افراد کے ساتھ مل کر موسیقی تخلیق کرنا اور گھنٹیوں کی آواز سے ہم آہنگی پیدا کرنا سکرین ٹائم کا بہترین توڑ ہے۔ جب نوجوان اکیلے بیٹھ کر سکرین سکرول کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر اس سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں، تو ان میں ذہنی سکون اور باہمی تعاون کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف روایتی فن زندہ رہتا ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کلیساؤں اور کمیونٹی ہالز میں گھنٹیاں بجانے کی ان مشقوں میں اب نوجوانوں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ اس قسم کے روایتی مشاغل ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور حقیقی انسانی تعلقات کو بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ نوجوانوں کی اس نئی دلچسپی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بھی روایتی اقدار اور اجتماعی سرگرمیوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی، بلکہ لوگ اب ان کی طرف دوبارہ لوٹ رہے ہیں۔